☕ ایک کپ سبز چائے


سماہنی کی شامیں ہمیشہ کچھ خاص ہوتی ہیں۔ ہلکی سی خنکی، آسمان پر نارنجی روشنی، اور سڑکوں پر چلتی زندگی۔ میں، جو ہمیشہ مصروف رہتا ہوں، آج پہلی بار خود کے لیے وقت نکال کر ایک کیفے کے باہر بیٹھا تھا۔ ہاتھ میں سبز چائے کا کپ، اور ذہن میں ہزاروں خیالات۔

اچانک ایک اجنبی میرے قریب آیا۔ درمیانی عمر، سادہ لباس، لیکن آنکھوں میں عجیب سی چمک۔

“یہ چائے صرف چائے نہیں ہے،” اجنبی نے کہا، “یہ تمہیں وہاں لے جا سکتی ہے جہاں تم نے کبھی سوچا بھی نہیں۔”

میں نے مسکرا کر جواب دیا، “اور وہ جگہ کون سی ہے؟”

اجنبی نے کیفے کے سامنے موجود ایک پرانی کتابوں کی دکان کی طرف اشارہ کیا، “بس اندر چلے جاؤ۔”

تجسس نے مجھے مجبور کیا۔ میں اٹھا، چائے کا کپ ہاتھ میں لیے، اور دکان میں داخل ہو گیا۔ اندر ہر چیز پرانی تھی، لیکن ایک کتاب بالکل نئی لگ رہی تھی۔ اس کا عنوان تھا: “ہم جو مشروب پیتے ہیں”۔

میں نے کتاب اٹھائی، اور حیرت سے دیکھا — مصنف کا نام تھا: میرے ہی نام سےتھا  ۔

دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ میں نے کبھی کوئی کتاب نہیں لکھی تھی۔ لیکن جیسے ہی میں نے پہلا صفحہ کھولا، وہ واقعات پڑھنے لگا جو صرف مجھے ہی معلوم تھے۔ میری زندگی، میرے فیصلے، میرے خواب — سب کچھ اس کتاب میں لکھا تھا۔

اجنبی نے پیچھے سے کہا، “کبھی کبھی، زندگی ہمیں وہ کہانیاں سناتی ہے جو ہم خود لکھنے سے ڈرتے ہیں۔”

میں نے کتاب بند کی، چائے کی آخری چسکی لی، اور مسکرا کر باہر نکل آیا۔ آج میں صرف ایک کپ چائے پینے نہیں آیا تھا — میں اپنی کہانی پڑھنے آیا تھا۔

Comments

Leave a Reply

Discover more from Arslan Stories

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading