تنویر کے بچپن کی یادوں کا سنہرا خواب

بچپن زندگی کا وہ سنہرا دور ہوتا ہے جسے وقت تو لے جاتا ہے، مگر دل کی گہرائیوں میں ہمیشہ زندہ رکھتا ہے۔ تنویر کے لیے بچپن صرف ایک دور نہیں تھا، بلکہ ایک دنیا تھی—جہاں ہر دن ایک نئی کہانی، ہر لمحہ ایک نئی خوشی، اور ہر مسکراہٹ ایک نیا خواب ہوا کرتی تھی۔

  1. دادی کی پرانی کہانیاں سننا
  2. گلی میں چھپن چھپائی کھیلنا
  3. عید پر نئے کپڑوں کی خوشی اور عیدی کا انتظار
  4. تنویر کے دوستوں کے ساتھ سائیکل کی دوڑ لگانا
  5. اسکول کے بعد گلی کے کونے پر ٹافی خریدنا
  6. بارش میں بھیگنا، کاغذ کی کشتی بنانا، اور پانی میں بہانا
  7. چھوٹے چھوٹے خوابوں کو بڑے یقین سے دیکھنا

تنویر کے بچپن میں نہ کوئی فکر تھی، نہ کوئی ذمہ داری۔ دن بھر گلیوں میں کھیلنا، دھوپ میں دوڑنا، اور شام کو تھکے ہوئے قدموں کے ساتھ گھر لوٹنا—یہ سب زندگی کی سب سے خوبصورت عادتیں تھیں۔ اسکول جانا بھی ایک مہم کی طرح لگتا تھا، جہاں دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق، چھوٹے چھوٹے جھگڑے، اور استادوں کی دلچسپ باتیں دل کو بہلا دیتی تھیں۔

یہ سب یادیں تنویر کے دل میں ایک خزانے کی طرح محفوظ ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ یادیں دھندلی تو ہو سکتی ہیں، مگر ان کی خوشبو کبھی نہیں جاتی۔

آج جب تنویر زندگی کی دوڑ میں مصروف ہے، تو وہ سادگی کہیں کھو گئی ہے۔ اب ہر عمل میں مقصد، ہر بات میں وزن، اور ہر لمحے میں حساب شامل ہو گیا ہے۔ مگر بچپن میں تو ہر لمحہ خود ایک مقصد ہوتا تھا—بس خوش رہنا، بے فکر ہونا، اور دنیا کو اپنی آنکھوں سے معصومیت سے دیکھنا۔

تنویر کے بچپن کی گلیاں، وہ پرانا اسکول، وہ درخت جس کے نیچے بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ باتیں ہوتی تھیں—یہ سب آج بھی دل میں زندہ ہیں۔ وہ دوست جن کے ساتھ ہر دن ایک مہم لگتا تھا، وہ کھیل جن میں ہار جیت سے زیادہ ساتھ ہونا اہم تھا، اور وہ لمحے جنہیں وقت کبھی مٹا نہیں سکا۔

بچپن ایک ایسا خواب ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ تنویر کے لیے یہ خواب آج بھی دل کے کسی کونے میں روشن ہے۔ جب زندگی تھکا دیتی ہے، تو بچپن کی یادیں ایک نرم سا سہارا بن جاتی ہیں۔ وہ یادیں جو ہمیں بتاتی ہیں کہ خوشی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی ہو سکتی ہے، اور زندگی کا اصل حسن سادگی میں چھپا ہوتا ہے۔


Comments

Leave a Reply

Discover more from Arslan Stories

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading