ماں اور باپ صرف رشتے نہیں ہوتے، یہ وہ بنیاد ہیں جن پر ہماری پوری زندگی کھڑی ہوتی ہے۔ ماں کی گود وہ پہلی دنیا ہے جہاں سکون، محبت، اور تحفظ ملتا ہے، اور باپ کا کندھا وہ پہلا سہارا ہے جس پر ہم اعتماد کرنا سیکھتے ہیں۔
جب میں پردیس آیا، تو سب کچھ نیا تھا — زبان، لوگ، ماحول۔ لیکن جو چیز سب سے زیادہ یاد آئی، وہ ماں کی نرم آواز تھی، اور باپ کی وہ خاموش دعائیں جو ہمیشہ میرے ساتھ تھیں۔
ماں وہ ہستی ہے جو راتوں کو جاگ کر رب سے بیٹے کی سلامتی مانگتی ہے، اور باپ وہ شخص ہے جو اپنی خواہشیں قربان کر کے بیٹے کے خوابوں کو حقیقت میں بدلتا ہے۔
پردیس میں جب دل تھک جاتا ہے، یا حالات مشکل ہو جاتے ہیں، تو ماں کی وہ دعائیں یاد آتی ہیں جو اس نے رخصت کرتے وقت مانگی تھیں۔ اور باپ کی وہ خاموشی یاد آتی ہے جس میں ایک دنیا کی فکر چھپی ہوتی ہے۔
ان دعاؤں میں ایک عجیب سی طاقت ہے۔ یہ دل کو سکون دیتی ہیں، اور زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرتی ہیں۔ ماں کی دعا انسان کو گناہوں سے بچاتی ہے، اور باپ کی دعا اسے کامیابی کی راہ دکھاتی ہے۔
جب کبھی فون پر بات ہوتی ہے، اور ماں کہتی ہے “بیٹا، تمہیں کوئی دکھ نہ ہو”، یا باپ کہتا ہے “اللہ تمہیں سرخرو کرے”، تو وہ الفاظ صرف جملے نہیں ہوتے — وہ میرے لیے ایک روحانی لباس بن جاتے ہیں، جو مجھے ہر آزمائش سے محفوظ رکھتا ہے۔
پردیس نے مجھے بہت کچھ سکھایا، لیکن سب سے بڑی سچائی یہی ہے کہ ماں اور باپ کی دعائیں وہ خزانہ ہیں جو ہر لمحے میرے ساتھ ہیں، اور جن کے سائے میں میں ہر دن جیتا ہوں۔

Leave a Reply